Saturday, January 30, 2016


سردار مہتاب طویل ترین اقتدار کے بعد استعفیٰ، اپنی سیاسی زندگی کی آخری اننگز کھیلنے کی تیاریاں
وہ اس عرصہ میں اپنی فیملی میں ہی لیڈرشپ دھونڈتے رہے، سرکل بکوٹ بھر میں کسی کو اس کا اہل نہیں پایا
سردار مہتاب اپنی قابلیت، صلاحیت ، اپنے میر کارواں سے وفا اور نصب العین سے سچائی کی وجہ سے سرکل بکوٹ جیسے پسماندہ علاقے سے خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے منصب پر فائز ہیں
سردار مہتاب نے اہلیان علاقہ کے دیرینہ خوابوں کو تعبیر دی ،ساتھ ہی سیاسی اورتعمیراتی ٹھیکیداروں کا مادر پدر آزاد وہ طبقہ بھی پروان چڑھا جو ان کی 30سالہ سیادت و قیادت کی تنزلی کا سبب بن گیا
 1974 میں کوئی کہہ سکتا تھا کہ… روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو کبھی زوال آسکتا ہے ، نون لیگ کا کام اور مشن… اچھا تھا یا برا… مکمل ہو چکا ہے… اس نے اپنی باری کی بھی تکمیل کر لی ہے

 واقعہ ایک۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخیاں دو۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کی بالکل الٹ
حقیقت کیا ہے۔۔۔۔۔۔ فیصلہ آپ خود کریں
******************************
تحریر: محمد عبیداللہ علوی
*****************************
    کسی علاقے میں جاری سیاسی و سماجی رحجانات اس علاقے کے عام لوگوں بالخصوص وہاں کی لیڈر شپ کی سوچ کے عکاس ہوتے ہیں، ملک بھر میں دیکھ لیجئے کہ جہاں جہاں تعلیمی ادارے، بلدیاتی نمائندے اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز فعال ہونگے وہاں وہاں سوچ میں بھی وسعت، من و تو کے تعصبات سے پاکی اور مقاصد میں بلندی نظر آئیگی، نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوہسار بالخصوص سرکل بکوٹ میں ایسا نہیں ہے بلکہ اگر قدیم نظام سماج کے ساتھ اس کا تقابل کیا جائے تو بھی جواب نفی میں ہو گا، اس میں کچھ اسباب داخلی اور کچھ وجوہات کا تعلق خارجی معاملات سے ہے،دنیا کا کوئی شخص ہو اس کا کوئی نہ کوئی وطن، قبیلہ، مذہب اور سماج ضرور ہوتا ہے، تنہا صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات مبارکہ  ہے اس طرح سماج کے ایک فرد کی حیثیت سے ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بن کر اپنے کردار کا تعین کرتا ہے، لیڈر بھی عام لوگوں سے سامنے آتے ہیں، ان میں اور عام آدمی میں فرق صرف سوچ کا ہوتا ہے اور اپنی اپنی قابلیت اور اہلیت کے حوالے سے وہ لیڈر اپنے ان لوگوں کا کی تقدیر لکھتا اور سنوارتا ہے جس سے ان میں اعتماد اور اعتبار ایمان و ایقان کی حد تک پختہ ہو کر اس کی سیاسی قوت بن جاتا ہیں، کیا سرکل بکوٹ میں ایسا ہے… ؟ ماضی کو چھوڑئیے، عصر حاضر کی زندہ تاریخ (Living History) پر ہی ایک نظر ڈالئے تو معلوم ہو گا کہ… نیلسن منڈیلا کسی ترقی یافتہ قوم کا فرد نہیں تھا، اس نے اپنے  ہموطنوں کو نسلی امتیاز سے آزاد کرانے کے نصب العین (Noble cause) کے حصول کیلئے اپنی جوانی کو زندان کے حوالے کیا اور پھر منزل عہد پیری (Old age) میں بھی پا لیا، آج وہ جنوبی افریقہ کا باپو (Father of the nation) ہے، محمد یونس ایک عام بنگالی ماہر اقتصادیات ہے، اس نے قوم کو ایک ایسا فارمولا دیا کہ 30 سال کے بد حال بنگلہ دیش کا ہر فرد آج 7,500 ڈالر سالانہ کما رہا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کار ڈالروں سے بھرے بریف کیسوں کے ساتھ این او سی کیلئے لائنوں میں کھڑے ہیں، ابوالکلام ایک نیم مسلم مگر سیکولر بھارتی سائنس دان تھا، اس نے اپنی دن رات کی محنت سے ملک کو 1974ء میں ایٹمی پاور بنا دیا، ایک پاکستانی محبوب الحق کے فارمولوں اور ویژن نے جنوبی کوریا کو اقتصادی سپر پاور بنایا، مگر وہ پاکستانی وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے ملک میں ناکام رہا، ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے وطن عزیز کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنایا مگر اسی وطن کے جاگیر دار اور قومی وژن سے تہی دست نیم خواندہ سیاستدانوں نے اس قومی ہیرو کو کھڈے لائن لگا دیا، جبکہ بھارتی سائنس دان ابولکلام کو اس کی قوم نے صدر مملکت کے منصب جلیلہ پر فائز کر کے اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔     سرکل بکوٹ کی سیاسی تاریخ آٹھ دہاییوں پر مشتمل ہے اور سوائے  1951-56(حضرت پیر حتیق اللہ بکوٹیؒ)، 1861-68(سردار عنائت الرحمٰن عباسی)، 1977ء کے 100 ایام (شمالی سرکل بکوٹ کی تاریخ میں مختصر ترین عہد کی پیپلز پارٹی کی  منتخب قیادت سردار گلزار عباسی) اور 1985 سے تا حال (سردار مہتاب احمد خان وخاندان سرداران ملکوٹ) کا محور سرکل بکوٹ رہا ہے اور انہیں تیس سالوں کی حکمرانی کا طویل ترین دور بھی نصیب ہوا ہے اور وہ بھی نیلسن منڈیلا کی طرح چوبیس ماہ کیلئے اٹک قلعہ میں پابند سلاسل رہے ہیں، وہ شخص جو راولپنڈی بار کا ممبر ہوتے ہوئے تین سال تک ایک مقدمہ حاصل نہ کر سکا تھا آج اپنی قابلیت، صلاحیت ، اپنے میر کارواں سے وفا اور نصب العین سے سچائی اور مزید یہ کہ اپنے مقدر (Fate) کی وجہ سے سرکل بکوٹ جیسے پسماندہ علاقے سے خیبر پختونخوا صوبے کے سب سے بڑے منصب پر فائز ہے،ماہرین اقبالیات کہتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ نے انڈین سول سروس کا امتحان دیا اور اس میں کامیاب بھی ہوا مگر اسے میڈیکلی ان فٹ قرار دیکر مسترد کردیا گیا، اگر علامہ اقبالؒ بیورو کریٹ سلیکٹ ہو جاتے تو ان کے اندر چھپا فلسفی اور مشرق کی شاعری ہلاک ہو جاتی اور وہ شاعر مشرق کہلاتا نہ مفکر پاکستان، اسی طرح اگر راولپنڈی بار میں سردار مہتاب مقدمات لینے اور جیتنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ زیادہ سے زیادہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا وکیل ہوتا مگر وہ کے پی کے کا وزیر اعلیٰ اور گورنر ہر گز نہ کہلاتا، اسی کی یونین کونسل پلک ملکوٹ کے ایک سینئر وکیل حبیب الرحمٰن عباسی ایڈووکیٹ سرکل بکوٹ میں الیکشن لڑ لڑ کر نہ صرف تھک گئے ہیں بلکہ مایوس ہو کر اپنے دو ووٹوں کے ساتھ مکمل طور پر راولپنڈی بھی منتقل ہو چکے ہیں۔
سردار مہتاب احمد خان گورنری کے استعفے کے بعد آرمی چیف جنرل راھیل شریف سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں الوداعی ملاقات کر رہے ہیں
    اہلیان سرکل بکوٹ نے سرداران بوئی (سردار حسن علی خان تا سردار عبد القیوم خان کا اقتدار بھی دیکھا جس میں جبر اور ظلم زیادا اور عوامی فلاح و بہبود کم تھی، اس کا متبادل سردار حسن علی خان کے ہی ہم برادری یعنی عثمانی حضرت پیر حقیق اللہ بکوٹیؒ کی صورت میں انہیں ملا، موجودہ سوارگلی بوئی روڈ انہی کا تصور تھا مگر اس عہد کی مرکزی عاقبت نا اندیش قیادت کی وجہ سے ہفتے اور مہینے بعد حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں اور یہ کام پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا، ایوبی دور حکومت میں سردار عنایت الرحمان عباسی کا جارحانہ طرز سیاست (Agressive nature of politics) نے حکومت مغربی پاکستان کو مقامی فعال قیادت اور شاندار لیڈر شپ کی بدولت اپر دیول کوہالہ روڈ، کوہالہ بکوٹ روڈ، گھوڑا گلی لورہ روڈ اور بیشمار نئے سکول، بنیادی مراکز صحت وغیرہ کی سہولیات حاصل ہوئیں، باغات لگے اور لوگوں کو نقد آور پھلوں کی صورت میں آمدنی کا ایک نیا ریسورس بھی ملا، 1985ء سے تا حال سردار مہتاب احمد خان سرکل بکوٹ کے نویکلے اور بلا شریک  حکمران (Solo ruler) ہیں،انہوں نے اپنی 30 سالہ عہد حکمرانی میں سرکل بکوٹ کو کیا کچھ ڈیلیور کیا اس کا ایک اجمالی خاکہ کچھ اس طرح سے ہے۔
سردار مہتاب کے استعفیٰ کے جواب میں وزیر اعظم کا خط
٭… سردار مہتاب احمد خان کا تعلق ایک متوسط کاروباری گھرانہ سے ہے، وہ سرکل بکوٹ کے مسائل سے بخوبی آگاہ تھے، انہوں نے بر سر اقتدار آ کر سب سے پہلے ڈسٹرکٹ بیوروکریسی کو نکیل ڈالی اور انہیں اپنے سرکل بکوٹ کے عوام کی خدمت کا  ان کی دہلیز (Doorstep) پر پابند کیا مگر ساتھ ان کی سیاسی اقتدار کی راہداریوں کے سفر کے آغاز ہی میں  ہی ایک ہٹو بچو گروپ بھی وجود میں آگیا جو سردار مہتاب کے حوالے سے سرکل بکوٹ کے عوام کے نام پر آٹا، چینی، سیمنٹ، اسلحہ لائسنس اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے پرمٹ منظور کرواتا رہا اور یہ سب چیزیں طورخم کے اس پار جاتی رہیں بلکہ اسلام آباد اور مری پولیس کو ڈرا دھمکا کر قانونی اور ممنوعہ بور کا اسلحہ بھی سرکل بکوٹ میں امپورٹ کیا جاتا رہا،1986ء سے تاحال بکوٹ پولیس تو ان کے گھر کی لونڈی ہے۔
٭… سردار مہتاب کے دور میں مری ایبٹ آباد روڈ کی عالمی معیار کے مطابق تعمیر ہوئی، اہلیان سرکل بکوٹ کا سوار گلی بوئی روڈ کا دیرینہ مطالبہ کا بھی نا مکمل تعبیر و تعمیر کا آغاز ہوا، سرکل بکوٹ بھر میں کافی لنک روڈز بھی تعمیر ہوئیں اور ان کی وجہ سے  نہ صرف معیار زندگی بہتر ہوا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے، کافی تعداد میں واٹر سپلائی سکیمیں بھی شروع کی گئیں جن میں سے ستر فیصد مکمل بھی ہوئیں،بلکہ سردار مہتاب نے اپنی آبائی یونین کونسل پلک ملکوٹ میں عام لوگوں کو گھروں میں بیت الخلاء بھی بنانے کیلئے فنڈز دئے، دوسری طرف اسی عرصہ میں سرداران ملکوٹ کے چہیتے سیاسی و تعمیراتی ٹھیکیداروں نے بھی زور پکڑا اور وہ تمام تر قوانین، ضابتوں اور قواعد سے بالا تر ہو گئے، کاغذوں اور دستاویزات میں تو سرکل بکوٹ پیرس بن گیا مگر قومی خزانے سے جاری فنڈز ان بے مہار ٹھیکیداروں کی بھینٹ چڑھ گئے، سردار مہتاب کی وزارت اعلیٰ کے ان تعمیراتی و سیاسی ٹھیکیداروں کے 18سال پہلے چھوڑے ہوئے ترقیاتی کام آج بھی اہلیان علاقہ کا منہ چڑھا رہے ہیں۔
٭…سردار مہتاب احمد خان کے تیس سالوں کے دوران بیروٹ، ایوبیہ اور بکوٹ کے ہائی سکولوں میں ہائر سیکنڈری کلاسز کا اجراء ہوا، مقامی ایم بی بی ایس ڈاکٹروں، ایل ایچ ویز  اور معاون پیرا میڈیکل عملہ
 بی ایچ یوز میں تعینات کیا گیا، کھیرالہ (ملکوٹ)، بیروٹ اور دیگر مقامات پر طبی سہولیات کیلئے عمارات بھی تعمیر ہوئیں لیکن اسی عہد میں ملکوٹ کا بی ایچ یو خرکاروں کے حوالے ہوا جس میں طبی عملہ کے بجائے گدھے بندھے ہوئے ہیں، ایوبیہ ہسپتال میں ڈاکٹر اور نرسیں تو موجود نہیں البتہ اس کے سبزہ زاروں میں گائیں اور بکریاں مٹر گشت کرتی ضرور نظر آتی ہیں، اسی دور میں  سرکل بکوٹ بھر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھی بھر مار ہوئی، جعلی ادویات کے ڈھیر لگ گئے، سرکاری ڈاکٹر اور دیگر عملہ عام آدمی کے بجائے نون لیگی حکمران ٹولہ کے ذاتی نوکر بن گئے جس کی مثال بکوٹ میں چوئدری ظفیر اور بیروٹ میں ڈاکٹر الیاس شاہ جی کی دی جا سکتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرکل بکوٹ کے طبی ادارے تو کھلے رہے، ان میں ڈاکٹر تھے نہ ادویات، دائیاں،  وکسینیٹر اور ڈریسر ہی ڈاکٹر بن کر  لوگوں کا علاج کرتے رہے، اگر کوئی زندہ رہا تو یہ اس کی قسمت  تھی، مزید یہ کہ  انہی تیس سالوں کے دوران پہلے سے موجود سرکل بکوٹ کے طبی ادارے تعلیمی اداروں کی طرح کھنڈر بنے آج بھی اپنے مقدر کے نوحہ گر ہیں۔
٭…سردار مہتاب کے عہد میں سرکل بکوٹ کو بلا شبہ علیحدہ شناخت ملی اور حکومتی ایوانوں میں اس علاقے کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہو گیا مگر دوسری طرف پہلے سے پساماندہ قرار دئے ہوئے سرکل بکوٹ کو حکومتی سطح پر ترقی یافتہ قرار دیا گیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ سرکل بکوٹ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں بالخصوص اماسٹرز، ایم فل، پی ایچ ڈی اور ایم بی بی ایس ڈاکٹروں پر ضلعی اور صوبائی ملازمتوں کے دروازے بند ہو گئے، پہلے وہ کوٹے پر یہ ملازمتیں پا لیتے تھے مگر اب ان کا ایبٹ آباد کے پڑھے اکھے شہری علاقے سے مقابلہ نا ممکن ہو گیا اور یہ نوجوان اب ملک کے دیگر شہروں میں دھکے کھا رہے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ سردار مہتاب کے دور میں نوجوانوں کو روزگار دلوانے میں بھی حکومتی سطح پر مجرمانہ اغماض برتا گیا اور اگر کسی کو ملازمت ملی بھی یو اپنی کوششوں پر، سرداران ملکوٹ کا اس میں کوئی حصہ نہیں یھا۔
٭…قومی انتخابات میں تحریک انصاف کی متبادل سیاسی قوت کا گزشتہ 30 برسوں سے سنے جانیوالے مسحور کن تحصیل سرکل بکوٹ کے نعرہ کے ساتھ ظہور (Amergence) اور قومی سطح پر پہلی بار کے پی کے کے سابق وزیر اعلیٰ کی شکست اور ایک بار پھر جدونوں کی سرکل بکوٹ پر گرفت نے ملکوٹ کا مورال اس قدر پسپا کر دیا ہے کہ سردار مہتاب خان اب زندگی کی آخری اننگز بطور غیر فعال کپتان کھیل رہے ہیں، ہمارے نوجوان دوست اور ملکوٹ سے تعلق رکھنے والے صحافی عاطف خالد ستی کے اس انکشاف کے بعد کہ… سردار مہتاب احمد خان گورنر شپ کے بعد سیاست سے ریٹائر ہو جائیں گے…نون لیگ سرکل بکوٹ  کیلئے سٹیٹس کو (جمود) کی کیفیت میں چلی گئی ہے، اسے ایک المیہ (Tregedy) ہی کہا جا سکتا ہے کہ سردار مہتاب لیڈر شپ کو اپنے ٹبر (Family) میں ہی تلاش کرتے رہے مگر وہ سرکل بکوٹ میں اپنے جیسا لیڈر پیداکرنے میں ناکام رہے ہے،  انہوں نے اپنے دور اقتدار میں اپنے بہنوئی سردار ممتاز، فرسٹ کزن اور سمدھی سردار فدا خان ، اپنے چھوٹے صاحبزادے سردار شمعون یار خان اور اب پھر فرسٹ کزن اور ایم پی اے سردار فرید خان کو میدان سیاست میں لائے ہیں، سرکل بکوٹ کے باشعور اور تمام تر سہولیات سے محروم پی ایچ ڈی تک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا سرکل بکوٹ کی آٹھ یونین کونسلوں کی ڈیڑھ لاکھ کی آبادی میں کوئی شخص ایسا نہیں جو سیاسی بصیرت اور تجربے میں سرداران ملکوٹ کا ہم پلہ ہو اور کم از کم ایم پی اے شپ کا ہی اہل ہو، لیڈر شپ کے اس فقدان کے باعث جہاں سرکل بکوٹ ایک پکے ہوئے پھل کی طرح پھر جدونوں  کی گود میں گرتا نظر آ رہا ہے اور سیاسی موروثیت (Political inheritance) پھر بھیس بدل کر سرکل بکوٹ پر مسلط ہونا چاہتی ہے اس کا اندازہ گورنر کی اس کوشش سے لگایا جا سکتا
 پے کہ اتنے بڑے منصب کا حامل شخص چند ناقص خیالات کے نون لیگیوں کی انا کی تسکین کیلئے اپنے حلقہ نیابت میں محض لنک روڈز کی تختیوں پر تختیاں لگانے آیا…؟ اورکسی فنڈز کا بھی اعلان نہیں کیا،  اب گورنر کی سیاسی ناکامی کا سبب بننے والے  یہ سیاسی و تعمیراتی ٹھیکیدار اور ہٹو بچو گروپ اب ان کی رہی سہی ساکھ کو بھی مٹی میں ملا رہا ہے، ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کی چند مرلے زمین کے بٹوارے کیلئے دو روز تک بکوٹ پولیس کو بیروٹ میں جس طرح مصروف رکھا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ سکول کی زلزلہ سے متاثرہ متنازعہ عمارت کی تکمیل کے بعد بس اب ڈگری کالج کی عمارت تعمیر ہوا ہی چاہتی ہے… مگر… اس پروپیگنڈے کا تاثر اتنا منفی نکلا کہ… توبہ ہی کی جا سکتی ہے، 1974ء میں کوئی کہہ سکتا تھا کہ… روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو کبھی زوال آسکتا ہے لیکن آج ماضی کے پیپلز پارٹی کے قائد عوام زندہ باد کے نعرے لگانے والے وہی جیالے… پی ٹی آئی کے پرچم تلے عمران کا نیا پاکستان بنانے کیلئے پرفشاں ہیں، نون لیگ کا کام اور مشن… اچھا تھا یا برا… مکمل ہو چکا ہے… اس نے اپنے باری کی بھی تکمیل کر لی ہے اور  یہ فیصلہ خداوندی…کہ…ہم  لوگوں پر دن پھیرتے رہتے ہیں… صوفی شاعر میاں محمد بخش کے الفاظ میں کچھ یوں ہے کہ
سدے نا باغ وچ بلبل بولے....... سدے نا باغ بہاراں
سدے نا ما پے، حسن جوانی، سدے نا صحبت یاراں

*************