Tuesday, February 14, 2017

سردار مہتاب احمد خان عباسی وزیراعظم کے مشیر ہوا بازی اور چیئرمین پی آئی اے مقرر، منگل صبح نو بجے سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا
-------------
ان کی سرکاری عہدہ جوائن نہ کرنے کی قانونی مدت اگست تک باقی تھی تاہم وزیر اعظم نے اپنے ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے ان کی تقرری ممکن بنائی ہے
--------------
سردار مہتاب خان کی اس کے لئے قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، مشرف نے ایک ہزار ایک ترغیبات کے ذریعے اٹک جیل میں سردار مہتاب کے ضمیر کی منڈی لگانے کی کوشش کی مگرسرکل بکوٹ کے اس باضمیر شخص نے یہ تمام ترغیبات اور لالچ اپنے جوتے کی نوک پر رکھ کرجدہ میں بیٹھے میاں برادران کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک وفا نبھانے کا عہد کیا
--------------
سردار مہتاب نے یہ ثابت کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔ حالات کچھ بھی ہوں، سرکل بکوٹ میں اپنے وطن اور قوم سے غداری کرکے منٹگمری میں مربعے حاصل کرنے والے میر جعفر و صادق  اب پیدا نہیں ہو سکتے

--------------
 راولپنڈی بار میں سردار مہتاب مقدمات لینے اور جیتنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ زیادہ سے زیادہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا وکیل ہوتا مگر وہ کے پی کے کا وزیر اعلیٰ اور گورنر اور اب پی آئی کا چیئرمین ہر گز نہ کہلاتا
*******************
تحقیق و تحریر
 محمد عبیداللہ علوی 
*******************
 فرزند سرکل بکوٹ ۔۔۔۔۔ سابق وزیر اعلیٰ اور گورنر گورنر خیبر پختون خوا سردار مہتاب خان عباسی وزیراعظم نوازشریف کے مشیر برائے ہوابازی اور چیئرمین پی آئی اے مقرر کردیئے گئے ہیں اور ان کی تقرری کا 14 فروری 2017 کی صبح نو بجےنوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔قومی سطح کے سیاستدان، وکیل اور صحافی نان سٹاپ اور دھڑا دھڑاپیدا کرنے والی یو سی پلک ملکوٹ سے تعلق رکھنے والے سردار مہتاب عباسی  پی آئی اے کے چئیرمین بھی ہوں گے اور انہیں وفاقی وزیر کے برابر درجہ حاصل ہوگا۔ اس سے قبل یہ عہدہ وفاقی وزیرترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کے پاس تھا جنہیں  شجاعت عظیم کے مستعفیٰ ہونے کے بعد اس عہدے کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔مہتاب خان عباسی نے گزشتہ برس پارلیمانی سیاست میں دوبارہ قدم رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کو بحیثیت گورنر استعفیٰ پیش کیا تھا جسے انہوں نے منظورکرلیا تھا۔سرکل بکوٹ سے پی آئی اے چیئرمین بننے والے سردار مہتاب پہلے شخص ہیں ۔۔۔۔۔ابھی ان کی سرکاری عہدہ جوائن نہ کرنے کی قانونی مدت اگست تک باقی تھی تاہم وزیر اعظم نے اپنے ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے ان کی تقرری ممکن بنائی ہے۔۔۔۔۔۔ اسے اہلیان سرکل بکوٹ کے نون لیگیوں اور سرداران ملکوٹ کیلئے ۔۔۔۔ یوم حیا ۔۔۔۔ کا تحفہ سمجھنا چائیے۔
مسلم لیگ نون ۔۔۔۔ بلا مبالغہ وفا شعاروں اور یاروں کی یار ۔۔۔۔ حکمران سیاسی جماعت  ۔۔۔۔۔ ہے، سردار مہتاب خان کی اس کے لئے قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، مشرف نے ایک ہزار ایک ترغیبات کے ذریعے اٹک جیل میں سردار مہتاب کے ضمیر کی منڈی لگانے کی کوشش کی مگر ۔۔۔۔ سرکل بکوٹ کے اس باضمیر شخص نے یہ تمام ترغیبات اور لالچ اپنے جوتے کی نوک پر رکھ کرجدہ میں بیٹھے میاں برادران کے ساتھ ۔۔۔۔ زندگی کی آخری سانس تک وفا نبھانے کا عہد کیا ۔۔۔۔ یہ شخص اپنے شجر سے پیوستہ رہا ۔۔۔۔ اسے گورنر شپ کی ڈرائیوری بھی پیش کی گئی اور اب ۔۔۔۔ اسے  وزیراعظم نوازشریف کے مشیر برائے ہوابازی اور چیئرمین پی آئی اے ۔۔۔۔ بھی مقرر کیا گیا ہے، یہ اس کی وفائوں کے سامنے بہت حقیر ہے مگر ۔۔۔۔ ؟ سردار مہتاب نے یہ ثابت کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔ حالات کچھ بھی ہوں، سرکل بکوٹ میں اپنے وطن اور قوم سے غداری کرکے منٹگمری میں مربع حاصل کرنے والے میر جعفر و صادق پیدا نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔ مگر دیکھ لیجئے، عزت و وقار دینے والے کی عطا ۔۔۔۔  کہ مہتابی وفا کا دوسرا نام ۔۔۔۔۔ کے پی کی گورنری اور وزارت اعلیٰ کے علاوہ پی آئی کی چیئرمینی اور ہوابازی میں وزیر اعظم کی مشاورت ۔۔۔۔ بھی ہے، کون ہے سرکل بکوٹ میں وفائوں کی یہ تاریخ  دوبارہ رقم کرنے والا اور ملک کے ان اعزازات کو 2117  تک حاصل کرنے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اگر کوئی بے وفا، ابن الوقت اور چوری کھانے والا مجنوں خواب میں بھی یہ عزت و شرف حاصل کر سکتا ہے تو سامنے آئے ۔۔۔۔۔؟
کسی علاقے میں جاری سیاسی و سماجی رحجانات اس علاقے کے عام لوگوں بالخصوص وہاں کی لیڈر شپ کی سوچ کے عکاس ہوتے ہیں، ملک بھر میں دیکھ لیجئے کہ جہاں جہاں تعلیمی ادارے، بلدیاتی نمائندے اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز فعال ہونگے وہاں وہاں سوچ میں بھی وسعت، من و تو کے تعصبات سے پاکی اور مقاصد میں بلندی نظر آئیگی، نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوہسار بالخصوص سرکل بکوٹ میں ایسا نہیں ہے بلکہ اگر قدیم نظام سماج کے ساتھ اس کا تقابل کیا جائے تو بھی جواب نفی میں ہو گا، اس میں کچھ اسباب داخلی اور کچھ وجوہات کا تعلق خارجی معاملات سے ہے،دنیا کا کوئی شخص ہو اس کا کوئی نہ کوئی وطن، قبیلہ، مذہب اور سماج ضرور ہوتا ہے، تنہا صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات مبارکہ ہے اس طرح سماج کے ایک فرد کی حیثیت سے ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بن کر اپنے کردار کا تعین کرتا ہے، لیڈر بھی عام لوگوں سے سامنے آتے ہیں، ان میں اور عام آدمی میں فرق صرف سوچ کا ہوتا ہے اور اپنی اپنی قابلیت اور اہلیت کے حوالے سے وہ لیڈر اپنے ان لوگوں کا کی تقدیر لکھتا اور سنوارتا ہے جس سے ان میں اعتماد اور اعتبار ایمان و ایقان کی حد تک پختہ ہو کر اس کی سیاسی قوت بن جاتا ہیں، کیا سرکل بکوٹ میں ایسا ہے… ؟ ماضی کو چھوڑئیے، عصر حاضر کی زندہ تاریخ (Living History) پر ہی ایک نظر ڈالئے تو معلوم ہو گا کہ… نیلسن منڈیلا کسی ترقی یافتہ قوم کا فرد نہیں تھا، اس نے اپنے ہموطنوں کو نسلی امتیاز سے آزاد کرانے کے نصب العین (Noble cause) کے حصول کیلئے اپنی جوانی کو زندان کے حوالے کیا اور پھر منزل عہد پیری (Old age) میں بھی پا لیا، آج وہ جنوبی افریقہ کا باپو (Father of the nation) ہے، محمد یونس ایک عام بنگالی ماہر اقتصادیات ہے، اس نے قوم کو ایک ایسا فارمولا دیا کہ 30 سال کے بد حال بنگلہ دیش کا ہر فرد آج 7,500 ڈالر سالانہ کما رہا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کار ڈالروں سے بھرے بریف کیسوں کے ساتھ این او سی کیلئے لائنوں میں کھڑے ہیں، ابوالکلام ایک نیم مسلم مگر سیکولر بھارتی سائنس دان تھا، اس نے اپنی دن رات کی محنت سے ملک کو 1974ء میں ایٹمی پاور بنا دیا، ایک پاکستانی محبوب الحق کے فارمولوں اور ویژن نے جنوبی کوریا کو اقتصادی سپر پاور بنایا، مگر وہ پاکستانی وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے ملک میں ناکام رہا، ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے وطن عزیز کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنایا ، جبکہ بھارتی سائنس دان ابولکلام کو اس کی قوم نے صدر مملکت کے منصب جلیلہ پر فائز کر کے اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
کوہسار بالخصوص سرکل بکوٹ کی سیاسی تاریخ آٹھ دہاییوں پر مشتمل ہے اور سوائے 1951-56(حضرت پیر حتیق اللہ بکوٹیؒ)، 1861-68(سردار عنائت الرحمٰن عباسی)، 1977ء کے 100 ایام (شمالی سرکل بکوٹ کی تاریخ میں مختصر ترین عہد کی پیپلز پارٹی کی منتخب قیادت سردار گلزار عباسی) اور 1985 سے تا حال (سردار مہتاب احمد خان کا محور سرکل بکوٹ رہا ہے اور انہیں تیس سالوں کی حکمرانی کا طویل ترین دور بھی ملا ہے اور وہ بھی نیلسن منڈیلا کی طرح چوبیس ماہ کیلئے اٹک قلعہ میں پابند سلاسل رہے ہیں، وہ شخص جو راولپنڈی بار کا ممبر ہوتے ہوئے تین سال تک ایک مقدمہ حاصل نہ کر سکا تھا آج اپنی قابلیت، صلاحیت ، اپنے میر کارواں سے وفا اور نصب العین سے سچائی اور مزید یہ کہ اپنے مقدر (Fate) کی وجہ سے سرکل بکوٹ جیسے پسماندہ علاقے سے خیبر پختونخوا صوبے کے سب سے بڑے منصب گورنری، وزارت اعلیٰ کے بعد اب شہری ہوا بازی میں وزیر اعظم کی مشاورت کیلئے پی آئی اے کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، ماہرین اقبالیات کہتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ نے انڈین سول سروس کا امتحان دیا اور اس میں کامیاب بھی ہوا مگر اسے میڈیکلی ان فٹ قرار دیکر مسترد کردیا گیا، اگر علامہ اقبالؒ بیورو کریٹ سلیکٹ ہو جاتے تو ان کے اندر چھپا فلسفی اور مشرق کی شاعری ہلاک ہو جاتی اور وہ شاعر مشرق کہلاتا نہ مفکر پاکستان، اسی طرح اگر راولپنڈی بار میں سردار مہتاب مقدمات لینے اور جیتنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ زیادہ سے زیادہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کا وکیل ہوتا مگر وہ کے پی کے کا وزیر اعلیٰ اور گورنر اور پی آئی کا چیئرمین ہر گز نہ کہلاتا، اہلیان سرکل بکوٹ نے سرداران بوئی (سردار حسن علی خان تا سردار عبدالقیوم خان) کا اقتدار بھی دیکھا جس میں جبر اور ظلم زیادہ اور عوامی فلاح و بہبود کم تھی، اس کا متبادل سردار حسن علی خان کے ہی ہم برادری یعنی عثمانی حضرت پیر حقیق اللہ بکوٹیؒ کی صورت میں انہیں ملا، موجودہ سوارگلی بوئی روڈ انہی کا تصور تھا مگر اس عہد کی مرکزی عاقبت نا اندیش قیادت کی وجہ سے ہفتے اور مہینے بعد حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں اور یہ کام پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا، ایوبی دور حکومت میں سردار عنایت الرحمان عباسی کا جارحانہ طرز سیاست (Agressive nature of politics) نے حکومت مغربی پاکستان کو مقامی فعال قیادت اور شاندار لیڈر شپ کی بدولت اپر دیول کوہالہ روڈ، کوہالہ بکوٹ روڈ، گھوڑا گلی لورہ روڈ اور بیشمار نئے سکول، بنیادی مراکز صحت وغیرہ کی سہولیات حاصل ہوئیں، باغات لگے اور لوگوں کو نقد آور پھلوں کی صورت میں آمدنی کا ایک نیا ریسورس بھی ملا، 1985ء سے تا حال سردار مہتاب احمد خان سرکل بکوٹ کے نویکلے اور بلا شریک حکمران (Solo ruler) ہیں،انہوں نے اپنی 30 سالہ عہد حکمرانی میں سرکل بکوٹ کو کیا کچھ ڈیلیور کیا اس کا ایک اجمالی خاکہ کچھ اس طرح سے ہے۔
٭… سردار مہتاب احمد خان کا تعلق ایک متوسط کاروباری گھرانہ سے ہے، وہ سرکل بکوٹ کے مسائل سے بخوبی آگاہ تھے، انہوں نے بر سر اقتدار آ کر سب سے پہلے ڈسٹرکٹ بیوروکریسی کو نکیل ڈالی اور انہیں اپنے سرکل بکوٹ کے عوام کی خدمت کا ان کی دہلیز (Doorstep) پر پابند کیا مگر ساتھ ان کی سیاسی اقتدار کی راہداریوں کے سفر کے آغاز ہی میں ہی ایک ہٹو بچو گروپ بھی وجود میں آگیا جو سردار مہتاب کے حوالے سے سرکل بکوٹ کے عوام کے نام پر آٹا، چینی، سیمنٹ، اسلحہ لائسنس اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے پرمٹ منظور کرواتا رہا اور یہ سب چیزیں طورخم کے اس پار جاتی رہیں ۔
٭… سردار مہتاب کے دور میں مری ایبٹ آباد روڈ کی عالمی معیار کے مطابق تعمیر ہوئی، اہلیان سرکل بکوٹ کا سوار گلی بوئی روڈ کا دیرینہ مطالبہ کا بھی نا مکمل تعبیر و تعمیر کا آغاز ہوا، سرکل بکوٹ بھر میں کافی لنک روڈز بھی تعمیر ہوئیں اور ان کی وجہ سے نہ صرف معیار زندگی بہتر ہوا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے، کافی تعداد میں واٹر سپلائی سکیمیں بھی شروع کی گئیں جن میں سے ستر فیصد مکمل بھی ہوئیں،بلکہ سردار مہتاب نے اپنی آبائی یونین کونسل پلک ملکوٹ میں عام لوگوں کو گھروں میں بیت الخلاء بھی بنانے کیلئے فنڈز بھی دئے، دوسری طرف اسی عرصہ میں سرداران ملکوٹ کے چہیتے سیاسی و تعمیراتی ٹھیکیداروں نے بھی زور پکڑا اور وہ تمام تر قوانین، ضابتوں اور قواعد سے بالا تر ہو گئے، کاغذوں اور دستاویزات میں تو سرکل بکوٹ پیرس بن گیا مگر قومی خزانے سے جاری فنڈز ان بے مہار ٹھیکیداروں کی بھینٹ چڑھ گئے، سردار مہتاب کی وزارت اعلیٰ کے ان تعمیراتی و سیاسی ٹھیکیداروں کے 18سال پہلے چھوڑے ہوئے ترقیاتی کام آج بھی اہلیان علاقہ کا منہ چڑھا رہے ہیں۔
٭…سردار مہتاب احمد خان کے بتیس سالوں کے دوران بیروٹ، ایوبیہ اور بکوٹ کے ہائی سکولوں میں ہائر سیکنڈری کلاسز کا اجراء ہوا، مقامی ایم بی بی ایس ڈاکٹروں، ایل ایچ ویز اور معاون پیرا میڈیکل عملہ بی ایچ یوز میں تعینات کیا گیا، کھیرالہ (ملکوٹ)، بیروٹ اور دیگر مقامات پر طبی سہولیات کیلئے عمارات بھی تعمیر ہوئیں لیکن اسی عہد میں ملکوٹ کا بی ایچ یو خرکاروں کے حوالے ہوا جس میں طبی عملہ کے بجائے گدھے بندھے ہوئے ہیں، ایوبیہ ہسپتال میں ڈاکٹر اور نرسیں تو موجود نہیں البتہ اس کے سبزہ زاروں میں گائیں اور بکریاں مٹر گشت کرتی ضرور نظر آتی ہیں، اسی دور میں سرکل بکوٹ بھر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھی بھر مار ہوئی، جعلی ادویات کے ڈھیر لگ گئے، سرکاری ڈاکٹر اور دیگر عملہ عام آدمی کے بجائے نون لیگی حکمران ٹولہ کے ذاتی نوکر بن گئے جس کی مثال بکوٹ میں چوہدری ظفیر اور بیروٹ میں ڈاکٹر الیاس شاہ جی کی دی جا سکتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرکل بکوٹ کے طبی ادارے تو کھلے رہے، ان میں ڈاکٹر تھے نہ ادویات، دائیاں، وکسینیٹر اور ڈریسر ہی ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج کرتے رہے، مزید یہ کہ انہی تیس سالوں کے دوران پہلے سے موجود سرکل بکوٹ کے طبی ادارے تعلیمی اداروں کی طرح کھنڈر بنے آج بھی اپنے مقدر کے نوحہ گر ہیں۔
٭…سردار مہتاب کے عہد میں سرکل بکوٹ کو بلا شبہ علیحدہ شناخت ملی اور حکومتی ایوانوں میں اس علاقے کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہو گیا مگر دوسری طرف پہلے سے پساماندہ قرار دئے ہوئے سرکل بکوٹ کو حکومتی سطح پر ترقی یافتہ قرار دیا گیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ سرکل بکوٹ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں بالخصوص ماسٹرز، ایم فل، پی ایچ ڈی اور ایم بی بی ایس ڈاکٹروں پر ضلعی اور صوبائی ملازمتوں کے دروازے بند ہو گئے، پہلے وہ کوٹے پر یہ ملازمتیں پا لیتے تھے مگر اب ان کا ایبٹ آباد کے پڑھے لکھے شہری علاقے سے مقابلہ نا ممکن ہو گیا اور یہ نوجوان اب ملک کے دیگر شہروں میں دھکے کھا رہے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ سردار مہتاب کے دور میں نوجوانوں کو روزگار دلوانے میں بھی حکومتی سطح پر مجرمانہ اغماض برتا گیا اور اب وہ وقت آ ہی گیا ہے کہ سردار مہتاب اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سرکل بکوٹ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو انہیں وہ کچھ  ڈیلیور کریں جس کے وہ مستحق ہیں ۔۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔۔ یہ لمحے زندگی میں بار بار آیا نہیں کرتے
٭…قومی انتخابات میں تحریک انصاف کی متبادل سیاسی قوت کا گزشتہ 30 برسوں سے سنے جانیوالے مسحور کن تحصیل سرکل بکوٹ کے نعرہ کے ساتھ ظہور (Amergence) اور قومی سطح پر پہلی بار کے پی کے کے سابق وزیر اعلیٰ کی شکست کے بعد سردار مہتاب خان اب زندگی کی آخری اننگز کھیل رہے ہیں،  سردار مہتاب احمد خان گورنر شپ کے بعد  اب پی آئیی میں بطور چیئرمین انٹری کوع ان کی وفائوں کا صلہ تو قرار دیا جا سکتا ہے، انہوں نے اپنے دور اقتدار میں اپنے بہنوئی سردار ممتاز، فرسٹ کزن اور سمدھی سردار فدا خان ، اپنے چھوٹے صاحبزادے سردار شمعون یار خان اور اب پھر فرسٹ کزن اور ایم پی اے سردار فرید خان کو میدان سیاست میں لائے ہیں، سرکل بکوٹ کے باشعور اور تمام تر سہولیات سے محروم پی ایچ ڈی تک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کا مستقبل کب تابناک ہو گا۔۔۔۔؟ ہماری علاقائی تاریخ اپنے اندر بصیرت کا بہت بڑا سامان سموئے ہوئے ہے کہ ۔۔۔۔ 1974ء میں کوئی کہہ سکتا تھا کہ… روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو کبھی زوال آسکتا ہے لیکن آج ماضی کے پیپلز پارٹی کے قائد عوام زندہ باد کے نعرے لگانے والے وہی جیالے… پی ٹی آئی کے پرچم تلے عمران کا نیا پاکستان بنانے کیلئے پرفشاں ہیں، نون لیگ کا کام اور مشن… اچھا تھا یا برا… مکمل ہو چکا ہے… اس نے اپنے باری کی بھی تکمیل کر لی ہے اور یہ فیصلہ خداوندی…کہ…ہم لوگوں پر دن پھیرتے رہتے ہیں… صوفی شاعر میاں محمد بخش کے الفاظ میں کچھ یوں ہے کہ
سدے نا باغ وچ بلبل بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سدے نا باغ بہاراں
سدے نا ما پے، حسن جوانی، سدے نا صحبت یاراں
****************************
 (Published in The Express Tribune, February 15th, 2017.)
KARACHI: A former governor of Khyber-Pakhtunkhwa, Sardar Mehtab Ahmed Khan Abbasi, has been appointed adviser to the prime minister on aviation with the key objective of turning around fortunes of the loss-making Pakistan International Airlines (PIA). “Originally, the idea was to appoint him as the PIA chairman. The government has now given him a bigger position (of aviation adviser),” a PML-N senator said. A notification issued by the Cabinet Division said the president of Pakistan, on the advice of prime minister, has appointed Sardar Mehtab Ahmed Khan Abbasi as adviser to the prime minister with the status of federal minister with immediate effect. According to a source, he has been appointed adviser on aviation. There was speculation that Abbasi might be given the additional charge of PIA chairman as well. However, the chances of this are dim. Abbasi would head PIA in the capacity of adviser and not as a full-time chairman, it was learnt. Secondly, the PIA chairman must be a member of the board of directors, which he is not, as the board has powers to elect the chairman only and no one else. A close aide of Prime Minister Nawaz Sharif said Abbasi had expressed the desire to head PIA with the objective of fixing its financial problems. “He expressed the interest when the (PML-N) government removed him as Khyber-Pakhtunkhwa governor and appointed Zafar Iqbal Jaghra (in March 2016),” he said. A PIA official added that Abbasi had been attending the airline’s office for over two months now, but not on a regular basis. Federal Aviation Division Secretary Irfan Elahi has been serving as acting PIA chairman since December 2016. Earlier, Azam Saigol resigned from the chairman’s post on December 12, 2016 days after a plane with 47 people on board crashed in Abbottabad minutes after take-off. Cash-strapped PIA reported in October 2016 a 2.3% increase in its accumulated losses to Rs267.56 billion in the quarter ended March 31, 2016. 

 **************

 روزنامہ مسلمان اسلام آباد ۔۔۔۔ 15فروری 2017